مسند اسحاق بن راهويه
كتاب النكاح و الطلاق— نکاح اور طلاق کے احکام و مسائل
باب: بیک وقت تین طلاق دینے کا بیان
حدیث نمبر: 641
اَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، نَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ اَبِیْهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ الطَّلاُق عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَسَنَتَیْنِ مِنْ اَمَارَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اَنَاةِ فِی الطَّلَاقِ، فَقَدِ اسْتَعْجَلْتُمْ اَنَاةَ لَکُمْ (أناتکم)، وَقَدْ اَجَزْنَا عَلَیْکُمْ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی امارت/خلافت کے دو سال تک تین طلاقیں ایک طلاق ہی شمار ہوتی تھیں، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”طلاق کے بارے میں تمہارے لیے حلم و بردباری کا حکم تھا، پس تم نے اپنی بردباری پر جلدی مچائی، لہٰذا ہم نے تمہاری جلد بازی کو تم پر نافذ قرار دے دیا۔“