حدیث نمبر: 64
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
اسی سند سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی سند سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:64]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:64]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ کامل مسلمان وہ ہے جس سے دوسروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔ ایک دوسری روایت میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے، سوال کیا گیا: ((اَیُّ الْمُوْمِنِیْنَ اَفْضَلُ اِسْلَامًا؟ قَالَ: اَفْضَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِسْلَامًا مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَیَدِهٖ)) (سلسلۃ صحیحہ، رقم: 1491)
اسلام کے لحاظ سے کون سے مومن افضل ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ’’اسلام کے لحاظ سے افضل مومن وہ ہیں جن کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہتے ہیں۔‘‘
ایک مسلمان مومن کو چاہیے کہ اپنی زبان سے کسی کواذیت نہ پہنچائے یعنی کسی کی غیبت نہ کرے، نہ کسی کو گالی دے۔ اور نہ ہاتھ کے ساتھ کسی کو اذیت پہنچائے۔ یعنی ظاہری و باطنی کسی قسم کی بھی اذیت نہ پہنچائے۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ کامل مسلمان وہ ہے جس سے دوسروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔ ایک دوسری روایت میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے، سوال کیا گیا: ((اَیُّ الْمُوْمِنِیْنَ اَفْضَلُ اِسْلَامًا؟ قَالَ: اَفْضَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِسْلَامًا مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِهٖ وَیَدِهٖ)) (سلسلۃ صحیحہ، رقم: 1491)
اسلام کے لحاظ سے کون سے مومن افضل ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ’’اسلام کے لحاظ سے افضل مومن وہ ہیں جن کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہتے ہیں۔‘‘
ایک مسلمان مومن کو چاہیے کہ اپنی زبان سے کسی کواذیت نہ پہنچائے یعنی کسی کی غیبت نہ کرے، نہ کسی کو گالی دے۔ اور نہ ہاتھ کے ساتھ کسی کو اذیت پہنچائے۔ یعنی ظاہری و باطنی کسی قسم کی بھی اذیت نہ پہنچائے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 64 سے ماخوذ ہے۔