مسند اسحاق بن راهويه
كتاب النكاح و الطلاق— نکاح اور طلاق کے احکام و مسائل
باب: بیوی سے ظہار کرنے کے بعد کفارہ ادا کرنے سے قبل ہمبستری جائز نہیں
حدیث نمبر: 639
اَخْبَرَنَا عَبْدُاللّٰهِ بْنُ نُمَیْرٍ، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ طَاؤُوْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنْ اِمْرَأَتِهٖ، ثُمَّ رَاٰهَا فِی الْقَمَرِ، فَاَعْجَبَتْهٗ فَوَقَعَ عَلَیْهَا، فَاَتَی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْبَرَهٗ فَقَالَ: اَلَیْسَ قَالَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ ﴿مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَاسَّا﴾ فَقَالَ: رَأَیْتُهَا فَاَعْجَبَتْنِیْ، فَقَالَ: اَمْسِكْ حَتّٰی تُکَفِّرَ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آدمی (سلمہ بن صخر) نے اپنی اہلیہ سے ظہار کر لیا (اسے کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے) پھر اس نے چاند کی چاندنی میں اسے دیکھ لیا، وہ اسے اچھی لگی تو اس نے اس سے جماع کر لیا، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا: اس سے پہلے کہ وہ دونوں جماع کریں۔“ اس نے عرض کیا: میں نے اسے دیکھا تو وہ مجھے اچھی لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باز رہو حتیٰ کہ تم کفارہ ادا کرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی (سلمہ بن صخر) نے اپنی اہلیہ سے ظہار کر لیا (اسے کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے) پھر اس نے چاند کی چاندنی میں اسے دیکھ لیا، وہ اسے اچھی لگی تو اس نے اس سے جماع کر لیا، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو بتایا، تو آپ نے فرمایا: ’’کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا: ’’اس سے پہلے کہ وہ دونوں جماع کریں۔‘‘ اس نے عرض کیا: میں نے اسے دیکھا تو وہ مجھے اچھی لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’باز رہو حتیٰ کہ تم کفارہ ادا کرو۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:639]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:639]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا ظہار میں کفارہ ادا کرنے سے قبل ہم بستری جائز نہیں ہے۔ ظہار یہ ہے: ((اَنْتَ عَلَیَّ کَظَهْرِ اُمِّیْ)) (القاموس المحیط، ص:392) ’’تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مانند ہے۔‘‘
امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کفارہ اد اکرنے سے پہلے شوہر پر ہم بستری حرام ہے اور اس پر اجماع ہے اس پر کفارہ بھی واجب ہے اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہم بستری کرنے سے کفارہ ساقط نہیں ہوتا۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا ظہار میں کفارہ ادا کرنے سے قبل ہم بستری جائز نہیں ہے۔ ظہار یہ ہے: ((اَنْتَ عَلَیَّ کَظَهْرِ اُمِّیْ)) (القاموس المحیط، ص:392) ’’تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مانند ہے۔‘‘
امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کفارہ اد اکرنے سے پہلے شوہر پر ہم بستری حرام ہے اور اس پر اجماع ہے اس پر کفارہ بھی واجب ہے اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہم بستری کرنے سے کفارہ ساقط نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 639 سے ماخوذ ہے۔