مسند اسحاق بن راهويه
كتاب النكاح و الطلاق— نکاح اور طلاق کے احکام و مسائل
باب: طلاق بائنہ کے بعد عورت کے لیے رہائش اور خرچ کا بیان
حدیث نمبر: 636
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا، أَيْنَ تَعْتَدُّ؟ , فَقَالَ: ((فِي بَيْتِ زَوْجِهَا)) ، فَقُلْتُ لَهُ: فَأَيْنَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ قَالَ: " تِلْكَ امْرَأَةٌ فَتَنَتِ النَّاسَ، كَانَتْ لَسِنَةً أَوْ قَالَ: كَانَتِ امْرَأَةٌ فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ عَلَى أَحْمَائِهَا ".ترجمہ: محمد سرور گوہر
میمون بن مہران نے بیان کیا: میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مطلقہ ثلاثہ کے متعلق پوچھا: کہ وہ کہاں عدت گزارے گی؟ انہوں نے کہا: اپنے شوہر کے گھر میں، تو میں نے انہیں کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث کہاں گئی؟ انہوں نے کہا: اس خاتون نے تو لوگوں کو آزمائش میں ڈال دیا ہے، وہ تو بداخلاق تھیں یا کہا: وہ ایسی خاتون تھیں کہ ان کا اپنے شوہر کے رشتے داروں سے اچھا سلوک نہیں تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
میمون بن مہران نے بیان کیا: میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مطلقہ ثلاثہ کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں عدت گزارے گی؟ انہوں نے کہا: اپنے شوہر کے گھر میں، تو میں نے انہیں کہا: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث کہاں گئی؟ انہوں نے کہا: اس خاتون نے تو لوگوں کو آزمائش میں ڈال دیا ہے، وہ تو بداخلاق تھیں یا کہا: وہ ایسی خاتون تھیں کہ ان کا اپنے شوہر کے رشتے داروں سے اچھا سلوک نہیں تھا۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:636]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:636]
فوائد:
مذکورہ روایت کو بعض محققین نے ضعیف کہا ہے، لیکن اگر صحیح بھی ہو تو جو وجہ بیان کی گئی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان کی زبان کی وجہ سے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہا کے گھر منتقل کیا گیا، یہ درست نہیں یہ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا اپنا قول ہے۔ صحیح وہ ہے جو حدیث نمبر 693 میں ہے کہ سیّدنا ابن ام مکتوم نظر سے محروم تھے، اس لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وہاں عدت گزارنے کا کہا گیا تاکہ پردے کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑھے۔
مذکورہ روایت کو بعض محققین نے ضعیف کہا ہے، لیکن اگر صحیح بھی ہو تو جو وجہ بیان کی گئی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان کی زبان کی وجہ سے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہا کے گھر منتقل کیا گیا، یہ درست نہیں یہ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا اپنا قول ہے۔ صحیح وہ ہے جو حدیث نمبر 693 میں ہے کہ سیّدنا ابن ام مکتوم نظر سے محروم تھے، اس لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وہاں عدت گزارنے کا کہا گیا تاکہ پردے کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑھے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 636 سے ماخوذ ہے۔