حدیث نمبر: 63
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ((لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی ہے نہ بدفالی کی کوئی حیثیت ہے، میں نیک شگون لینا پسند کرتا ہوں۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الايمان / حدیث: 63
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب السلام ، باب الطيرة والفال ويكون فيه من الشوم ، رقم : 2223 . سنن ابوداود ، رقم : 3916 . سنن ابن ماجه ، رقم : 3537 . مسند احمد : 507/2»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی بیماری متعدی ہے نہ بدفالی کی کوئی حیثیت ہے، میں نیک شگون لینا پسند کرتا ہوں۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:63]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا اچھا فال جائز ہے۔ صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا طِیْرَةَ وَخَیْرُہَا الْفَالُ۔)).... ’’بدشگونی کی کوئی اصل نہیں اور اس میں بہتر فال نیک ہے۔‘‘ لوگوں نے پوچھا کہ نیک فال کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْکَلِمَةُ الصَّالِحَۃُ یَسْمَعُهَا اَحَدُکُمْ۔)) (بخاري، رقم:5755)....’’کلمہ صالحہ (نیک بات) جو تم میں سے کوئی سنے۔‘‘
ایک روایت میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک فال کو ’’اَلْکَلِمَةُ الْحَسَنَةُ‘‘ فرمایا، جس پر امام کرمانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے نیک فال کی محبت فطرت میں رکھ دی ہے۔ جیسا کہ خوش کن منظر اور صاف پانی کو دیکھنے سے راحت محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ اس پانی کو استعمال نہ کیا ہو۔ (عون المعبود)
صلح حدیبیہ کے موقع پر جب سہیل بن عمرو آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((قَدْ سَهَّلَ اللّٰہُ اَمْرَکُمْ)) (بخاري، رقم: 2731۔ 2732۔ مسند احمد: 4؍ 328)’’اللہ نے تمہارا معاملہ آسان کر دیا ہے۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 63 سے ماخوذ ہے۔