حدیث نمبر: 622
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: ((أُمِرْنَا فِي الْإِحْدَادِ أَنْ لَا نَمَسَّ طِيبًا إِلَّا أَدْنَى الطُّهْرَةِ بِالْكَسْتِ وَالْأَظْفَارِ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ہمیں حکم دیا گیا: ہم سوگ کے دوران خوشبو نہ لگائیں سوائے (حیض سے فارغ ہو کر) غسل کے موقع پر تھوڑی سی عود ہندی اور اظفار خوشبو استعمال کر لیں۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب النكاح و الطلاق / حدیث: 622
تخریج حدیث «انظر ما قبله .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، ہمیں حکم دیا گیا ہم سوگ کے دوران خوشبو نہ لگائیں سوائے (حیض سے فارغ ہو کر) غسل کے موقع پر تھوڑی سی عود ہندی اور اظفار خوشبو استعمال کر لیں۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:622]
فوائد:
. اس حدیث میں سوگ اور عدت کے احکام کے مسائل کا بیان ہے۔ رنگین کپڑے بھی عدت کے دوران نہیں پہننے چاہئیں، لیکن جو کپڑا زیادہ شوخ رنگ کا نہیں ہوتا وہ پہننا جائز ہے، جیسا کہ مذکورہ حدیث میں ہے۔ ((ثَوْبٌ عَصَبٌ)) یعنی ’’کچھ سفید اور کچھ رنگین۔‘‘ کیونکہ یہ کپڑا یمن میں بنتا تھا اور اس میں زیادہ سفید اور کچھ رنگ دار ہوتا تھا۔ مذکورہ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا عورت جب حیض کا غسل کرے تو وہ اپنی شرمگاہ پر بو کو دور کرنے کے لیے خوشبو کا استعمال کرے اور اس کی اجازت سوگ کی حالت میں بھی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 622 سے ماخوذ ہے۔