حدیث نمبر: 617
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، أَرْسَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ إِلَى سُبَيْعَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ شَأْنِهَا فَذَكَرَ نَحْوًا مِمَّا قَالَ أَبُو سَلَمَةَ فِي شَأْنِهَا. قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكَانَ زَوْجُهَا سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ تُوُفِّيَ عَامَ الْفَتْحِ وَكَانَ بَدْرِيًّا.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ مروان بن الحکم نے عبداللہ بن عتبہ کو سبیعہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بھیجا کہ وہ ان سے ان کے مسئلے کے متعلق دریافت کرے، پس انہوں نے بھی ویسے ہی ذکر کیا جس طرح ابوسلمہ نے ان کے مسئلے میں بیان کیا تھا، زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: ان کے شوہر سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ تھے، وہ فتح مکہ کے سال فوت ہوئے، انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب النكاح و الطلاق / حدیث: 617
تخریج حدیث «مسند احمد : 432/6 . مصنف عبدالرزاق ، كتاب الطلاق ، باب المطلقة يموت عنها زوجها : 473/6 ، رقم : 11722 . اسناده صحيح .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ مروان بن الحکم نے عبداللہ بن عتبہ کو سبیعہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بھیجا کہ وہ ان سے ان کے مسئلے کے متعلق دریافت کرے۔ پس انہوں نے بھی ویسے ہی ذکر کیا جس طرح ابوسلمہ نے ان کے مسئلے میں بیان کیا تھا۔ زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: ان کے شوہر سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ تھے، وہ فتح مکہ کے سال فوت ہوئے، انہوں نے غزوۂ بدر میں شرکت کی تھی۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:617]
فوائد:
مذکورہ احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ لیکن اگر وہ عورت حاملہ ہو تو وضع حمل ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاُوْلَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ (الطلاق:4) .... ’’اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔‘‘
جمہور علماء بیوہ حاملہ کے لیے اسی عدت کے قائل ہیں۔ لیکن چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جن میں سیّدنا ابوسنابل رضی اللہ عنہ بھی ہیں، کہتے ہیں: دونوں میں سے بعد والی عدت پوری کی جائے یعنی اگر حاملہ بیوہ عورت چار ماہ دس دن سے پہلے حمل وضع ہوجائے تو ایسی عورت کو چار ماہ دس دن مکمل کرنے چاہئیں، لیکن اگر چار ماہ دس دن ہوجانے پر وضع حمل نہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلف کے درمیان پہلے تو بیوہ کی عدت میں اختلاف تھا، لیکن بعد میں اتفاق ہوگیا کہ اس کی عدت وضع حمل ہی ہے۔ (اعلام الموقعین: 2؍86)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 617 سے ماخوذ ہے۔