مسند اسحاق بن راهويه
كتاب النكاح و الطلاق— نکاح اور طلاق کے احکام و مسائل
باب: حاملہ عورت کی عدت وضع حمل تک ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، نا دَاوُدُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، وَابْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُمَا كَتَبَا إِلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ يَسْأَلَانِهَا عَنْ أَمْرِهَا، فَكَتَبَتْ إِلَيْهِمَا أَنَّهَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، فَتَهَيَّأَتْ لِتَطْلُبَ الْخَيْرَ، فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ، فَقَالَ لَهَا: قَدْ أَسْرَعْتِ، اعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتِ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: ((وَمِمَّ ذَاكَ؟)) قَالَتْ: فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: ((إِنْ وَجَدْتِ رَجُلًا صَالِحًا فَتَزَوَّجِي)).مسروق اور ابن عتبہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے نام خط لکھا اور ان سے ان کے معاملہ کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے انہیں جواب لکھا کہ انہوں نے اپنے شوہر کی وفات سے پچیس دن بعد بچے کو جنم دیا تھا، پس انہوں نے طلب خیر (نکاح) کا قصد کیا، پس ابوالسنابل رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے انہیں کہا: تم نے جلد بازی کی ہے دو میں سے آخری عدت کو مکمل کرو، اور وہ چار ماہ دس دن ہے، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس وجہ سے؟“ انہوں نے کہا: میں نے آپ کو واقعہ بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں نیک آدمی مل جائے تو شادی کر لو۔“