حدیث نمبر: 612
اَخْبَرَنَا وَکِیْعَ، نَا زَکَرِیَّا، عَنِ الشَّعْبِیِّ، قَالَ: اَفْتٰی اَبُوْ سَلْمَةَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، وَابْنُ عَبَّاسٍ فِی الْمُتَوَفّٰی عَنْهَا زَوْجُهَا، فَاَرْسِلُوْا اِلٰی اُمِّ سَلِمَةَ فَسَأَلُوْهَا عَنْ ذٰلِكَ، فَقَالَتْ: وَضَعَتْ سُبَیْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا شَهْرًا وَنَحْوَهُ، فَلَمَّا وَلَدَتْ وَتَطَهَّرَتْ، قَالَ لَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: انْکَحِیْ مَنْ شِئْتِ وَلَمْ یَقُلْ: آخِرَ الْاَجَلَیْنِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس عورت کے متعلق جس کو شوہر فوت ہو جائے فتویٰ دیا، تو انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا: سبیعہ نے اپنے شوہر کی وفات سے تقریباً ایک ماہ بعد بچے کو جنم دیا، پس جب انہوں نے بچے کو جنم دیا اور وہ (نفاس سے) پاک ہو گئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”تم جس سے چاہو نکاح کر لو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں کہا: دو میں سے آخری مدت پوری کرو۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب النكاح و الطلاق / حدیث: 612
تخریج حدیث «السابق»