مسند اسحاق بن راهويه
كتاب النكاح و الطلاق— نکاح اور طلاق کے احکام و مسائل
باب: نامحرم عورتوں کو سلام کہنے کے آداب اور بیوی کا اپنے خاوند کی ناشکری کا بیان
أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ، نا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ جِوَارُ أَتْرَابٍ، فَقَالَ: ((إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ)) . فَقُلْتُ: وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ؟ فَقَالَ: " لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا حَتَّى تَعْنَسَ فَيُزَوِّجُهَا اللَّهُ زَوْجًا دَلًّا فَتَغْضَبَ الْغَضْبَةَ فَتَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ".سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم، ہم عمر لڑکیاں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”«منعمين» کی ناشکری کرنے سے اجتناب کرو۔“ ہم نے عرض کیا: «منعمين» کی ناشکری سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کسی کا شادی کے بغیر والا عرصہ طویل ہو جائے حتیٰ کہ وہ شادی کیے بغیر بوڑھی ہو جائے، پھر اللہ اسے شوہر اور اولاد عطا فرما دے، اور پھر وہ سخت غصے میں آ کر کہہ دے: میں نے تجھ سے کبھی کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:610]
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا عورت کے لیے اس کا خاوند اور اس کی اولاد بہت بڑی نعمت ہے۔ اس پر عورت کو اللہ ذوالجلال اور اپنے خاوند کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ (مزید دیکھئے شرح حدیث نمبر: 575)