حدیث نمبر: 61
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فِي اللَّهِ فِي الْإِسْلَامِ فَيَفْسُدُ ذَلِكَ بَيْنَهُمَا إِلَّا مِنْ ذَنْبٍ يُحَدِثُهُ أَحَدُهُمَا)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
اسی سند سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دو افراد اسلام میں اللہ کی خاطر محبت کرتے ہیں تو ان دونوں کے درمیان، ان میں سے کسی ایک کا گناہ کا ارتکاب کرنا، بگاڑ پیدا کرتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی سند سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو دو افراد اسلام میں اللہ کی خاطر محبت کرتے ہیں تو ان دونوں کے درمیان، ان میں سے کسی ایک کا گناہ کا ارتکاب کرنا، بگاڑ پیدا کرتا ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:61]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:61]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے گناہ کی نحوست اور بے برکتی کا اثبات ہے یعنی گناہ سے اسلام کی وجہ سے آپس میں دوستی کا رشتہ تھا وہ ختم ہو جاتا ہے۔
مذکورہ حدیث سے گناہ کی نحوست اور بے برکتی کا اثبات ہے یعنی گناہ سے اسلام کی وجہ سے آپس میں دوستی کا رشتہ تھا وہ ختم ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 61 سے ماخوذ ہے۔