مسند اسحاق بن راهويه
كتاب النكاح و الطلاق— نکاح اور طلاق کے احکام و مسائل
باب: نامحرم عورتوں کو سلام کہنے کے آداب اور بیوی کا اپنے خاوند کی ناشکری کا بیان
حدیث نمبر: 609
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا قَالَتْ: مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ)) ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَقَالَ: فَتَغْضَبُ فَتَحْلِفُ بِاللَّهِ فَتَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم خواتین میں موجود تھیں، آپ نے ہمیں سلام کیا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے آپ کے سلام کا جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”«منعمين» کی ناشکری سے بچو۔“ پس راوی نے حدیث سابق کے مثل ذکر کیا، اور فرمایا: ”پس تم ناراض ہو کر اللہ کی قسم اٹھا کر کہتی ہو، میں نے تم سے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم خواتین میں موجود تھیں، آپ نے ہمیں سلام کیا، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے آپ کے سلام کا جواب دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’منعمین کی ناشکری سے بچو۔‘‘ پس راوی نے حدیث سابق کے مثل ذکر کیا، اور فرمایا: ’’پس تم ناراض ہو کر اللہ کی قسم اٹھا کر کہتی ہو: میں نے تم سے کبھی کوئی خیر نہیں دیکھی۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:609]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:609]
فوائد:
مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا بیوی کو اپنے خاوند کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ اور ناشکری کس طرح کرتی ہے اس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث میں خود کی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عید الفطر میں عید گاہ تشریف لے گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ’’اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم کو دیکھا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم بہت زیادہ لعن طعن اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ ‘‘ (بخاري، کتاب الحیض: 304)
مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوا بیوی کو اپنے خاوند کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ اور ناشکری کس طرح کرتی ہے اس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث میں خود کی ہے۔ صحیح بخاری میں ہے سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عید الفطر میں عید گاہ تشریف لے گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: ’’اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم کو دیکھا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم بہت زیادہ لعن طعن اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ ‘‘ (بخاري، کتاب الحیض: 304)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 609 سے ماخوذ ہے۔