حدیث نمبر: 604
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ فَلْيُجِبْ فَإِمَّا أَنْ يَأْكُلَ، وَإِمَّا أَنْ يُصَلِّيَ فَإِذَا وَلَجَ الرَّسُولُ قَبْلَهُ فَهُوَ إِذْنُهُ وَإِنْ دَخَلَ هُوَ قَبْلَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

اسی (سابقہ) اسناد سے ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ اسے قبول کرے، پس وہ یا تو کھانا کھا لے یا پھر (اہل خانہ کے لیے) دعا کرے، اگر قاصد اس سے پہلے داخل ہو جائے تو وہی اس کا اذن ہے، اور اگر وہ اس سے پہلے داخل ہو تو وہ اجازت طلب کرے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب النكاح و الطلاق / حدیث: 604
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب النكا ح ، باب الامر باجابة الداعي الي دعوة ، رقم : 1431 . سنن ابوداود ، رقم : 2460 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی (سابقہ:۴۵۰) اسناد سے ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو وہ اسے قبول کرے، پس وہ یا تو کھانا کھا لے یا پھر (اہل خانہ کے لیے) دعا کرے، اگر قاصد اس سے پہلے داخل ہو جائے تو وہی اس کا اذن ہے، اور اگر وہ اس سے پہلے داخل ہو تو وہ اجازت طلب کرے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:604]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو اس کو قبول کرنی چاہیے۔ اگر کھانا کھانے کو دل نہ چاہے تو وہاں جا کر میزبان کے لیے دعا کر دینی چاہیے۔ لیکن اگر کسی جگہ پر اللہ ذوالجلال کی نافرمانی والا کام ہو رہا ہو تو وہاں جانا درست نہیں ہے۔
جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دعوت دی۔ وہ آئے تو گھر کی دیوار پر پردہ پڑا ہوا دیکھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عورتوں نے ہم سے زبردستی یہ کام کرا لیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: کسی اور پر یہ خطرہ تو ممکن ہے، تمہارے متعلق یہ خطرہ نہ تھا۔ اللہ کی قسم! میں تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا۔ چنانچہ واپس چلے گئے۔ (مزید دیکھئے شرح حدیث نمبر 206)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 604 سے ماخوذ ہے۔