حدیث نمبر: 602
أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ، نا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا تَشَهُّدٌ فَهِيَ كَالِيَدِ الْجَذْمَاءِ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ خطبہ جس میں تشہد (توحید و رسالت کی گواہی) نہ ہو تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب النكاح و الطلاق / حدیث: 602
تخریج حدیث «سنن ابوداود ، كتاب الادب ، باب فى الخطبة ، رقم : 4841 . سنن ترمذي ، ابواب النكا ح ، باب ماجاء فى خطبة النكا ح ، رقم : 1106 . قال الشيخ الالباني : صحيح . صحيح ابن حبان ، رقم : 2796 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہر وہ خطبہ جس میں تشہد (توحید ورسالت کی گواہی) نہ ہو تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:602]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر خطبہ میں توحید ورسالت ہونی چاہیے، تشہّد سے مراد شہادتین کا اقرار کرنا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبۂ مبارک سے ثابت ہے: ((اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَحْمُدُهٗ وَنَسْتَعِیْنُهٗ وَنَسْتَغْفِرُهٗ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا مَنْ یَّهْدِهٖ اللّٰهُ فَـلَا مُضِلَّ لَهٗ وَمَنْ یُّضْلِلْ فَـلَا هَادِیَ لَهٗ، اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْكَ لَهٗ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ۔))
کَالْیَدِ الْجَزْمَاءِ: جذام زدہ، ناقص اور عیب دار ہاتھ کی طرح، معلوم ہوا جس خطبہ میں حمدوثنا توحید ورسالت کی گواہی نہیں، وہ ناقص ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 602 سے ماخوذ ہے۔