مسند اسحاق بن راهويه
كتاب النكاح و الطلاق— نکاح اور طلاق کے احکام و مسائل
باب: من و سلویٰ اور شجرِ ممنوعہ کا ذکر
حدیث نمبر: 596
أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْفًا الْأَعْرَابِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ وَلَمْ يَخْبُثِ الطَّعَامُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا)) .ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل نہ ہوتے تو نہ گوشت سڑا کرتا (بدبودار ہوتا)، نہ کھانا خراب ہوا کرتا، اور اگر حوا نہ ہوتیں تو عورت اپنے شوہر سے بے وفائی (دغا) نہ کرتی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت سڑ ا کرتا (بدبودار ہوتا) نہ کھانا خراب ہوا کرتا، اور اگر حواء علیہ السلام نہ ہوتیں تو عورت اپنے شوہر سے بے وفائی (دغا) نہ کرتی۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:596]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:596]
فوائد:
مطلب یہ ہے کہ (سلویٰ) گوشت جمع کرنے کی عادت بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی، اگر وہ یہ عادت نہ اپناتے، بلکہ بروقت کھا لیتے ذخیرہ نہ کرے تو گوشت سڑنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ مذکورہ حدیث کا دوسرا حصہ ہے: اگر حواء نہ ہوتیں تو عورت اپنے شوہر سے بے وفائی نہ کرتی۔
مطلب یہ کہ جب شیطان نے سیدہ حوا علیہا السلام کے سامنے ممنوعہ درخت کی فضیلت بیان کی تو سیدہ حوا علیہا السلام نے شیطان ملعون کی بات میں آکر اس کی بات کو مان لیا اور پھر سیدنا آدم علیہ السلام کو بھی اس درخت کی خوبیاں بیان کیں تو وہ بھی مان گئے۔ اسی کو خیانت سے تعبیر کیا گیا ہے جبکہ ہماری کوئی اور بے وفائی یا دغا مراد نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ (سلویٰ) گوشت جمع کرنے کی عادت بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی، اگر وہ یہ عادت نہ اپناتے، بلکہ بروقت کھا لیتے ذخیرہ نہ کرے تو گوشت سڑنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ مذکورہ حدیث کا دوسرا حصہ ہے: اگر حواء نہ ہوتیں تو عورت اپنے شوہر سے بے وفائی نہ کرتی۔
مطلب یہ کہ جب شیطان نے سیدہ حوا علیہا السلام کے سامنے ممنوعہ درخت کی فضیلت بیان کی تو سیدہ حوا علیہا السلام نے شیطان ملعون کی بات میں آکر اس کی بات کو مان لیا اور پھر سیدنا آدم علیہ السلام کو بھی اس درخت کی خوبیاں بیان کیں تو وہ بھی مان گئے۔ اسی کو خیانت سے تعبیر کیا گیا ہے جبکہ ہماری کوئی اور بے وفائی یا دغا مراد نہیں۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 596 سے ماخوذ ہے۔