حدیث نمبر: 585
اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سَجْدَةِ (صٓ) قَالَ: تَوْبَةُ عَبْدٍ، اَوْ تَوْبَةُ نَبِیٍّ، فَاَمَرَ اللّٰهُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّقْتَدِیَ بِهٖ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
مجاہد رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورہ ص کے سجدے کے بارے میں روایت کیا: انہوں نے کہا: بندے کی توبہ یا نبی کی توبہ ہے۔ پس اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ وہ اس کی اقتدا کریں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
مجاہد رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۂ صٓ کے سجدے کے بارے میں روایت کیا، انہوں نے کہا: بندے کی توبہ یا نبی کی توبہ ہے۔ پس اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ وہ اس کی اقتدا کریں۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:585]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:585]
فوائد:
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ: ﴿اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَی اللّٰهُ فَبِهُدٰهُمُ اقْتَدِهْ﴾ (الانعام:90) .... ’’یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیے۔‘‘
لہٰذا ہمیں بھی سجدہ کرنا چاہیے۔ جیسا کہ دوسری روایت سے سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے موقف کی وضاحت ہوتی ہے۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، سورہ صٓ کا سجدہ لازم نہیں ہے۔ لیکن میں نے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سجدہ کیا کرتے تھے۔ (بخاري، رقم: 1069۔ سنن ابي داود، رقم: 1409)
سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ: ﴿اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَی اللّٰهُ فَبِهُدٰهُمُ اقْتَدِهْ﴾ (الانعام:90) .... ’’یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیے۔‘‘
لہٰذا ہمیں بھی سجدہ کرنا چاہیے۔ جیسا کہ دوسری روایت سے سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے موقف کی وضاحت ہوتی ہے۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، سورہ صٓ کا سجدہ لازم نہیں ہے۔ لیکن میں نے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سجدہ کیا کرتے تھے۔ (بخاري، رقم: 1069۔ سنن ابي داود، رقم: 1409)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 585 سے ماخوذ ہے۔