حدیث نمبر: 574
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ أَصْغَرَ الْبُيُوتِ مِنَ الْخَيْرِ الْبَيْتُ الصَّغِيرُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

اسی سند سے ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلائی سے سب سے زیادہ خالی گھر وہ ہے جو اللہ کی کتاب سے خالی ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 574
تخریج حدیث «مستدرك حاكم : 566/1 . مجمع الزوائد : 167/7 . مسند الحارث ، رقم : 732 . مسند الشامين ، رقم : 2355 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی سند سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بھلائی سے سب سے زیادہ خالی گھر وہ ہے جو اللہ کی کتاب سے خالی ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:574]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں اللہ ذوالجلال کی کتاب کی تلاوت نہیں ہوتی، وہ خیر و بھلائی سے خالی گھر ہیں۔ بلکہ وہ ایسے ہیں جس طرح قبرستان ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ مَقَابِرَ، اِنَّ الشَّیْطَانَ یَنِفِرُ مِنَ الْبَیْتِ الَّذِیْ تُقْرَأُ فِیْهِ سُوْرَةُ الْبَقَرَۃِ)) (مسلم، رقم: 780).... ’’تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، بے شک شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کی جاتی رہے۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 574 سے ماخوذ ہے۔