حدیث نمبر: 57
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

اسی سند سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی ابتدا اجنبیت سے ہوئی اور اس کی انتہا بھی اجنبیت پر ہو گی۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الايمان / حدیث: 57
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب الايمان ، باب بيان ان الاسلام بدا غريباو . . . . . ، سنن ترمذي ، رقم : 2629 . سنن ابن ماجه ، رقم : 3986»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی سند سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسلام کی ابتدا اجنبیت سے ہوئی اور اس کی انتہاء بھی اجنبیت پر ہوگی۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:57]
فوائد:
معلوم ہوا اسلام شروع میں اجنبی تھا اور اس کو کوئی جانتا نہیں تھا اور لوگ اسلام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے اور لوگوں نے اس کو مٹانے کی کوشش کی۔ لیکن آہستہ آہستہ اسلام پھیلا۔ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانہ کے بعد پھر دین اسلام سے لوگ دور ہوتے گئے، اسلام کو ماننے والوں نے اغیار کے طریقوں کو اپنا لیا اور نئی نئی چیزیں اسلام میں شامل کرلیں۔ موجودہ زمانہ میں بھی چند لوگ اسلام پر کاربند ہیں۔ اگرچہ مسلمان کثیر تعداد میں ہیں لیکن اسلام کے احکامات پر عمل پیرا نہیں ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 57 سے ماخوذ ہے۔