حدیث نمبر: 567
وَقَالَ قَيْسٌ: عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عُمَرُ قَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ: الْيَوْمَ وَهِيَ الْإِسْلَامُ قَالَ: وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا ذُكِرَ فِي حَدِيثِ قَيْسٍ قَالَ: قُلْ لَهَا: لَا تَبْكِينَ، فَقَالَتْ: إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى خَبَرِ السَّمَاءِ قَالَ إِسْحَاقُ: نَرَاهُ وَهْمًا مِنْ سُفْيَانَ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

طارق بن شہاب نے بیان کیا: جب عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے، ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آج اسلام کمزور ہو گیا۔“ راوی نے کہا: سفیان بسا اوقات حدیث قیس میں کہا کرتے تھے: انہوں نے کہا: ان (ام ایمن رضی اللہ عنہا) سے کہا گیا: آپ نہ روئیں، انہوں نے فرمایا: میں آسمان کی خبر پر روتی ہوں، اسحاق (راوی) نے کہا: ہم اسے سفیان کی طرف سے وہم سمجھتے ہیں۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الفضائل / حدیث: 567
تخریج حدیث «معجم كبير الطبراني : 56/25 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
طارق بن شہاب نے بیان کیا، جب عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دئیے گئے، ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا: ’’آج اسلام کمزور ہوگیا۔‘‘ راوی نے کہا: سفیان بسا اوقات حدیث قیس میں کہا کرتے تھے: انہوں نے کہا: ان (ام ایمن رضی اللہ عنہا) سے کہا گیا: آپ نہ روئیں، انہوں نے فرمایا: میں آسمان کی خبر پر روتی ہوں، اسحاق (راوی) نے کہا: ہم اسے سفیان کی طرف سے وہم سمجھتے ہیں۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:567]
فوائد:
سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مشرق ومغرب تک توحید کا پرچم لہرایا اور بہت زیادہ فتوحات ہوئیں۔ اس کے بعد سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا جس کے ابتدائی چھ سالوں میں کافی فتوحات ہوئیں باقی چھ سال فتنوں کی نظر ہو گئے، اس کے بعد اسلام کو اس طرح کی طاقت نہ مل سکی جو سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تھی۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 567 سے ماخوذ ہے۔