مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الفضائل— فضائل کا بیان
باب: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ کھجوروں میں برکت
حدیث نمبر: 547
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ: بِآخِرِهِ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
اسماعیل بن مسلم نے اس سند کے ساتھ اسی مثل روایت کیا، لیکن انہوں نے «بِآخِرِه» الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسماعیل بن مسلم نے اس سند کے ساتھ اسی مثل روایت کیا، لیکن انہوں نے بِآخِرِہٖ الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:547]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:547]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کا اثبات ہوتا ہے۔ مزید دیکھئے شرح حدیث نمبر544؍3
واقعہ حرہ یہ 63ہجری میں پیش آیا، جب یزید کی لوگ بیعت کر رہے تھے اور کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل مدینہ یزید کو دیکھنے کے لیے گئے اور اس وفد نے جائزہ لیا تو یزید کو خلافت کا نااہل پایا اور اس کی حرکات کو دیکھ کر بیزار ہو کر واپس لوٹے اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یزید کو جب خبر ہوئی تو اس نے مسلم بن عقبہ کو سردار بنا کر ایک بڑا لشکر مدینہ کی طرف روانہ کیا اور اس لشکر نے اہل مدینہ پر بہت زیادہ ظلم کیا، سینکڑوں، صحابہ و تابعین اور عوام مردوں و عورتوں اور بچوں کو قتل کیا۔ یہ واقعہ مدینہ منورہ کے متصل حرہ نامی میدان میں ہوا تھا۔
مذکورہ حدیث سے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کا اثبات ہوتا ہے۔ مزید دیکھئے شرح حدیث نمبر544؍3
واقعہ حرہ یہ 63ہجری میں پیش آیا، جب یزید کی لوگ بیعت کر رہے تھے اور کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہل مدینہ یزید کو دیکھنے کے لیے گئے اور اس وفد نے جائزہ لیا تو یزید کو خلافت کا نااہل پایا اور اس کی حرکات کو دیکھ کر بیزار ہو کر واپس لوٹے اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یزید کو جب خبر ہوئی تو اس نے مسلم بن عقبہ کو سردار بنا کر ایک بڑا لشکر مدینہ کی طرف روانہ کیا اور اس لشکر نے اہل مدینہ پر بہت زیادہ ظلم کیا، سینکڑوں، صحابہ و تابعین اور عوام مردوں و عورتوں اور بچوں کو قتل کیا۔ یہ واقعہ مدینہ منورہ کے متصل حرہ نامی میدان میں ہوا تھا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 547 سے ماخوذ ہے۔