حدیث نمبر: 521
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَرِيحًا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ کی راہ میں زخم آ جائے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا رنگ خون کا سا ہو گا، جبکہ اس کی خوشبو کستوری کی ہو گی۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الجهاد / حدیث: 521
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الجهاد ، باب من يخرج فى سبيل الله عزوجل ، رقم : 2803 . مسلم ، كتاب الامارة باب فضل الجهاد والخروج فى سبيل الله ، رقم : 1876 . سنن ابوداود ، رقم : 2541 . سنن ترمذي ، رقم : 1657 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص کو اللہ کی راہ میں زخم آجائے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا رنگ خون کا سا ہوگا، جبکہ اس کی خوشبو کستوری کی ہوگی۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:521]
فوائد:
معلوم ہوا جہاد میں زخمی ہونا بھی بہت بڑی فضیلت ہے۔ قیامت کے دن جس طرح شہید کی عزت افزائی ہوگی، اسی طرح جہاد میں زخمی ہونے والے کی بھی عزت افزائی ہوگی۔
امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: جو شخص باغیوں اور راہزنوں کے ہاتھوں زخمی ہو یا امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی اقامت میں وفات پا جائے۔ تو اس شخص کے لیے بھی یہی فضیلت ہے۔ (شرح مسلم للنووی: ص 1448 طبع دار ابن حزم)
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ امام نووی رحمہ اللہ کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں: مشک (کستوری) کے پاک ہونے پر اجماع ہے، بدن اور کپڑوں پر اس کا استعمال جائز ہے۔ نیز اس کی تجارت (بھی) جائز ہے۔ (فتح الباري: 1؍ 345)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 521 سے ماخوذ ہے۔