مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الجهاد— جہاد کے فضائل و مسائل
باب: اللہ ذوالجلال کے راستے میں ایک صبح یا شام گزارنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 519
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((وَاللَّهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
اسی اسناد سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام گزارنا دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی اسناد سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم! اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام گزارنا دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:519]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:519]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا اللہ ذوالجلال کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام گزارنا، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے بہتر ہے۔ علماء کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے جتنے خزانے ہیں اگر وہ سارے اللہ ذوالجلال کے راستے میں خرچ کر دئیے جائیں تو جتنا ثواب ملے گا، اس سے زیادہ ثواب جہاد میں تھوڑا سا وقت لگانے سے ملے گا۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا اللہ ذوالجلال کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام گزارنا، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سے بہتر ہے۔ علماء کہتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے جتنے خزانے ہیں اگر وہ سارے اللہ ذوالجلال کے راستے میں خرچ کر دئیے جائیں تو جتنا ثواب ملے گا، اس سے زیادہ ثواب جہاد میں تھوڑا سا وقت لگانے سے ملے گا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 519 سے ماخوذ ہے۔