مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الجهاد— جہاد کے فضائل و مسائل
باب: فتح مکہ کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے ساتھ سلوک
حدیث نمبر: 515
قَالَ عَفَّانُ وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَاسْتَعْمَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجرَّاحِ عَلَى الْحُسَّرِ، يُرِيدُ الْبَارِقَةَ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سلیمان بن مغیرہ نے اس حدیث کے بارے میں بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو ایسے پیادہ لشکر پر مامور فرمایا، جس کے پاس زرہ نہیں تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سلیمان بن مغیرہ نے اس حدیث کے بارے میں بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو ایسے پیادہ لشکر پر مامور فرمایا، جس کے پاس زرہ نہیں تھیں۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:515]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:515]
فوائد:
مذکورہ حدیث میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ مسلمانوں کا لشکر جب مکہ معظمہ میں داخل ہوا اور جس ترتیب سے داخل ہوئے اس کی کیفیت کیا تھی۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قریش مکہ سے سلوک کیا اور عام معافی کا اعلان کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا: (1) جو شخص ہتھیار پھینک دے اس کو قتل نہ کیا جائے۔ (2) جو شخص خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو جائے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ (3) جو شخص اپنے گھر میں بیٹھ جائے اسے قتل نہ کیا جائے۔ (4) جو شخص ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے گھر چلا جائے اسے قتل نہ کیا جائے۔ (5) جو شخص حکیم بن حزام کے گھر چلا جائے اس کو قتل نہ کیا جائے۔ (6) جو لوگ بھاگ جائیں ان کا تعاقب نہ کیا جائے۔ (7) بوڑھوں، بچوں، عورتوں اور زخمیوں کو قتل نہ کیا جائے۔ (8) قیدیوں کو بھی قتل نہ کیا جائے۔ (البدایة والنهایة: 3؍ 288۔289)
قریش مکہ نے بڑے برے ظلم کیے تھے اور ان ظلموں کو بھلا کر فرمایا: ((لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَکُمْ وَهُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ)) ’’آج تم پر کوئی الزام اور مواخذہ نہیں، اللہ تم کو بخش دے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ مہربان ہے۔‘‘
مذکورہ حدیث میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ مسلمانوں کا لشکر جب مکہ معظمہ میں داخل ہوا اور جس ترتیب سے داخل ہوئے اس کی کیفیت کیا تھی۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قریش مکہ سے سلوک کیا اور عام معافی کا اعلان کیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا: (1) جو شخص ہتھیار پھینک دے اس کو قتل نہ کیا جائے۔ (2) جو شخص خانہ کعبہ کے اندر داخل ہو جائے، اسے قتل نہ کیا جائے۔ (3) جو شخص اپنے گھر میں بیٹھ جائے اسے قتل نہ کیا جائے۔ (4) جو شخص ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے گھر چلا جائے اسے قتل نہ کیا جائے۔ (5) جو شخص حکیم بن حزام کے گھر چلا جائے اس کو قتل نہ کیا جائے۔ (6) جو لوگ بھاگ جائیں ان کا تعاقب نہ کیا جائے۔ (7) بوڑھوں، بچوں، عورتوں اور زخمیوں کو قتل نہ کیا جائے۔ (8) قیدیوں کو بھی قتل نہ کیا جائے۔ (البدایة والنهایة: 3؍ 288۔289)
قریش مکہ نے بڑے برے ظلم کیے تھے اور ان ظلموں کو بھلا کر فرمایا: ((لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَکُمْ وَهُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ)) ’’آج تم پر کوئی الزام اور مواخذہ نہیں، اللہ تم کو بخش دے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ مہربان ہے۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 515 سے ماخوذ ہے۔