حدیث نمبر: 507
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَالْمُلَائِيُّ، قَالَا، نا سُفْيَانُ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ((يَكْرَهُ الشَّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شکال قسم کے گھوڑے کو ناپسند کرتے تھے (شکال: وہ گھوڑا جس کی دائیں ٹانگ اور بائیں بازو میں سفیدی ہو)۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الجهاد / حدیث: 507
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب الامارة ، باب ما يكره من صفات الخيل ، رقم : 1875 . سنن ابوداود ، كتاب الجهاد ، باب مابكره من الخيل ، رقم : 2547 . سنن ترمذي ، رقم : 1698 . سنن نسائي ، رقم : 3566 . مسند احمد : 250/2 . صحيح الجامع الصغير ، رقم : 9137 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شکال قسم کے گھوڑے کو ناپسند کرتے تھے (شکال: وہ گھوڑا جس کی دائیں ٹانگ اور بائیں بازو میں سفیدی ہو)
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:507]
فوائد:
گھوڑوں کی مختلف اقسام ہیں، کوئی اعلیٰ ہیں اور کوئی ادنیٰ ہیں۔
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بہترین گھوڑا وہ ہے، جو سیاہ ہو، پیشانی پر تھوڑا سا سفید نشان ہو۔ چاروں پاؤں میں سفیدی ہو، ناک اور اوپر والا ہونٹ سفید ہوں، اگلا دائیاں پاؤں سفید نہ ہو۔ اگر سیاہ رنگ نہ ہو تو انہی صفات کا حامل گھوڑا عمدہ ہے۔‘‘
(سنن ابن ماجة، ابواب الجهاد، رقم: 2789۔ سنن ترمذي، رقم: 1697)
شکال گھوڑے کونسے ہیں؟ ’’صحیح مسلم‘‘ میں راوی نے شکال کی تعریف کی ہے۔ جس گھوڑے کے دائیں پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو یا دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں میں سفیدی ہو۔ (مسلم، کتاب الامارة، رقم: 1875)
شکال کی تعریف میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا: جس کے تین پاؤں سفید ہوں اور ایک ہم رنگ یا تین ہم رنگ اور ایک سفید۔ تفصیل کے لیے (شرح مسلم للنووی)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 507 سے ماخوذ ہے۔