حدیث نمبر: 506
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، نا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ دَوْسًا، فَقَالَ: ائْتِهِمْ فَذَكَرَ رِجَالَهُمْ وَنِسَاءَهُمْ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، هَلَكَتْ دَوْسٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ فَقَالَ: ((اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو اس نے دوس قبیلے کا ذکر کیا، اس نے کہا: وہ لوگ اور اس نے ان کے مردوں اور عورتوں کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے، اس آدمی نے کہا: «انا لله وانا اليه راجعون»، رب کعبہ کی قسم! دوس والے ہلاک ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے، اور فرمایا: ”اے اللہ! دوس قبیلے والوں کو ہدایت نصیب فرما۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو اس نے دوس قبیلے کا ذکر کیا، اس نے کہا: وہ لوگ اور اس نے ان کے مردوں اور عورتوں کا ذکر کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے، اس آدمی نے کہا: اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ، رب کعبہ کی قسم! دوس والے ہلاک ہو گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھائے، اور فرمایا: ’’اے اللہ! دوس قبیلے والوں کو ہدایت نصیب فرما۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:506]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:506]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے قبیلہ دوس کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، یہ قبیلہ یمن میں رہتا تھا، کیونکہ دوس عین میں ایک قوم ہے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسی قبیلے سے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے یہ دعا کروانے والے سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ تھے۔ (بخاري، کتاب المغازی، رقم: 4392)
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا یہ نتیجہ نکلا کہ اس قبیلے کے لوگ مسلمان ہوگئے۔ (فتح الباري: 8؍ 128۔ شرح حدیث:4392)
مذکورہ حدیث سے قبیلہ دوس کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، یہ قبیلہ یمن میں رہتا تھا، کیونکہ دوس عین میں ایک قوم ہے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اسی قبیلے سے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے یہ دعا کروانے والے سیدنا طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ تھے۔ (بخاري، کتاب المغازی، رقم: 4392)
نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا یہ نتیجہ نکلا کہ اس قبیلے کے لوگ مسلمان ہوگئے۔ (فتح الباري: 8؍ 128۔ شرح حدیث:4392)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 506 سے ماخوذ ہے۔