مسند اسحاق بن راهويه
كتاب العتق و المكاتب— غلاموں کی آزادی اور مکاتب کا بیان
باب: ام ولد لونڈی کا بیان
حدیث نمبر: 482
اَخْبَرَنَا عِیْسَی بْنُ یُوْنُسَ، نَا اَبُوْبَکْرِ السَّبَرِیُّ، عَنْ حُسَیْنِ بْنِ عَبْدِاللّٰهِ عَنْ عِکْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ لِاُمِّ اِبْرَاهِیْمَ حِیْنَ وَلَدَتْ: اَعْتِقَهَا وَلَدُهَا.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے لخت جگر) ابراہیم (رضی اللہ عنہ) کی والدہ (ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا) کے لیے فرمایا: جس وقت کہ انہوں نے انہیں جنم دیا تھا: ”اس کے بیٹے نے اسے آزادی دلا دی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے لخت جگر) ابراہیم(رضی اللہ عنہ) کی والدہ (ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا)کے لیے فرمایا جس وقت کہ انہوں نے انہیں جنم دیا تھا: ’’اس کے بیٹے نے اسے آزادی دلا دی۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:482]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:482]
فوائد:
سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہم اپنی لونڈیوں اور امہات اولاد کو بیچ دیا کرتے تھے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے۔ ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ (صحیح ابی داؤد، رقم: 3345۔ سنن ابن ماجة، ابواب العتق، رقم: 2517)
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث اگرچہ سنداً صحیح ہے، لیکن اسے اس لیے دلیل نہیں بنایا جاسکتا، کیونکہ اس میں یہ ذکر نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس عمل کا علم تھا۔ (المحلی بالاثار: 8؍214)
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے امّ ولد لونڈیوں کی بیع سے منع فرمایا اور کہا کہ یہ لونڈی نہ تو ہبہ کی جاسکتی ہے اور نہ ہی میراث میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ جب تک مالک چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور جب فوت ہوجائے تو وہ لونڈی آزاد ہے۔ (سنن کبریٰ بیهقی: 10؍ 342۔ سنن دارقطنی: 4؍ 134)
جمہور کا موقف ہے کہ امّ ولد (وہ لونڈی جس سے مالک کی اولاد ہو جائے) کی بیع جائز نہیں۔ (نیل الاوطار: 4؍ 169)
اس سلسلہ میں راجح بات یہی ہے کہ اس مسئلہ میں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔ لیکن دلیل سے پتہ چلتا ہے کہ امّ ولد کی بیع حرام نہیں ہے۔ لیکن کراہت ضرور موجود ہے۔
سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ہم اپنی لونڈیوں اور امہات اولاد کو بیچ دیا کرتے تھے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے۔ ہم اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ (صحیح ابی داؤد، رقم: 3345۔ سنن ابن ماجة، ابواب العتق، رقم: 2517)
علامہ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث اگرچہ سنداً صحیح ہے، لیکن اسے اس لیے دلیل نہیں بنایا جاسکتا، کیونکہ اس میں یہ ذکر نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس عمل کا علم تھا۔ (المحلی بالاثار: 8؍214)
سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے امّ ولد لونڈیوں کی بیع سے منع فرمایا اور کہا کہ یہ لونڈی نہ تو ہبہ کی جاسکتی ہے اور نہ ہی میراث میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ جب تک مالک چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور جب فوت ہوجائے تو وہ لونڈی آزاد ہے۔ (سنن کبریٰ بیهقی: 10؍ 342۔ سنن دارقطنی: 4؍ 134)
جمہور کا موقف ہے کہ امّ ولد (وہ لونڈی جس سے مالک کی اولاد ہو جائے) کی بیع جائز نہیں۔ (نیل الاوطار: 4؍ 169)
اس سلسلہ میں راجح بات یہی ہے کہ اس مسئلہ میں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔ لیکن دلیل سے پتہ چلتا ہے کہ امّ ولد کی بیع حرام نہیں ہے۔ لیکن کراہت ضرور موجود ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 482 سے ماخوذ ہے۔