حدیث نمبر: 481
اَخْبَرَنَا الثَّقَفِیُّ، نَا اَیُّوْبُ، عَنْ عِکْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ زَوْجُ بَرِیْرَةَ عَبْدًا اَسْوَدَ، یُقَالُ لَهٗ مُغِیْثٌ، کَأَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْهِ یَطُوْفُ وَرَاءَهَا فِیْ سِکَکِ الْمَدِیْنَةِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: بریرہ کے شوہر حبشی غلام تھے، ان کا نام مغیث تھا، گویا کہ میں انہیں ان (بریرہ رضی اللہ عنہا) کے پیچھے مدینے کی گلیوں میں چکر لگاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب العتق و المكاتب / حدیث: 481
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الطلاق ، باب خبار الامة تحت العبد ، رقم : 5281 . سنن ابوداود ، رقم : 2233 ، 2232 . سنن نسائي ، رقم : 5417 . سنن ابن ماجه ، رقم : 2075 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حبشی غلام تھے، ان کا نام مغیث(رضی اللہ عنہ) تھا، گویا کہ میں انہیں ان (بریرہ رضی اللہ عنہا) کے پیچھے مدینے کی گلیوں میں چکر لگاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:481]
فوائد:
سیّدہ بریرہ رضی اللہ عنہا اور ان کا خاوند دونوں غلام تھے۔ سیّدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے خاوند مغیث رضی اللہ عنہ، اپنی بیوی سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ کیونکہ بریرہ رضی اللہ عنہا خوبصورت اور سیّدنا مغیث رضی اللہ عنہ کالے رنگ کے تھے، جبکہ سیّدہ بریرہ رضی اللہ عنہا سیّدنا مغیث رضی اللہ عنہ کو پسند نہیں کرتی تھی۔ شرعی اصول یہ ہے کہ جب دونوں غلام ہوں اور عورت پہلے آزاد ہوجائے تو عورت کو اختیار ہے کہ اپنے خاوند کے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا کہ نہیں؟ لیکن اگر شوہر آزاد ہوجائے تو کیا پھر عورت کو اختیار ہے یا کہ نہیں؟ جمہور کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں عورت کو اختیار نہیں ہے۔ کیونکہ اختیار کی علت غلام ہونے کی وجہ سے عدم کفایت تھی جو کہ اب موجود نہیں، جب کہ احناف کا کہنا ہے کہ اسے ابھی بھی اختیار حاصل ہے۔ حدیث بریرہ سے غلاموں کے متعلق کئی مسائل واضح ہوتے ہیں۔ (نیل الاوطار: 4؍ 235۔ المغنی: 9؍ 453)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 481 سے ماخوذ ہے۔