حدیث نمبر: 480
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْمَمْلُوكَ إِذَا تُوُفِّيَ وَهُوَ يُحْسِنُ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَيَنْصَحُ لِسَيِّدِهِ يُعْتِقُهُ اللَّهُ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

اسی (سابقہ) اسناد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مملوک اس حال میں وفات پائے کہ وہ اپنے رب کی خوب اچھی طرح عبادت کرتا ہو اور اپنے مالک کے لیے بھی خیر خواہ ہو تو اللہ اسے (جہنم سے) آزاد فرما دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب العتق و المكاتب / حدیث: 480
تخریج حدیث «اسناده ضعيف ، بصح بطرقه ، بخاري ، كتاب العتق ، باب العبد اذا احسن عبادة ربه الخ ، رقم : 2546 . مسلم ، كتاب الايمان ، باب ثواب العبد واجره الخ ، رقم : 1667 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی (سابقہ ۴۷۶) اسناد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب مملوک اس حال میں وفات پائے کہ وہ اپنے رب کی خوب اچھی طرح عبادت کرتا ہو اور اپنے مالک کے لیے بھی خیر خواہ ہو تو اللہ اسے (جہنم سے) آزاد فرما دیتا ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:480]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے اس غلام کی فضیلت وعظمت ثابت ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اور اپنے مالک کی فرمانبرداری کرتا ہے کہ ایسے شخص کو اللہ ذوالجلال جہنم سے آزاد کر دیں گے گویا ایسا انسان جہنم میں نہیں جائے گا۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’غلام جو اپنے آقا کا خیر خواہ بھی ہو اور اپنے رب کی عبادت بھی اچھی طرح کرتا ہو تو اسے دو گنا ثواب ملتا ہے۔‘‘ (بخاري، رقم: 2546)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 480 سے ماخوذ ہے۔