مسند اسحاق بن راهويه
كتاب العتق و المكاتب— غلاموں کی آزادی اور مکاتب کا بیان
باب: خادم/غلام کو کھانا دینے کا بیان
حدیث نمبر: 475
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، نا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ قَدْ كَفَاهُ حَرَّهُ وَعَمَلَهُ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ وَلْيُنَاوِلْهُ لُقْمَةً)) .ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا لے کر آئے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھائے اور اسے لقمہ دے کیونکہ کھانا پکانے کی مشقت اور آگ کی حرارت بھی تو اسی نے برداشت کی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا لے کر آئے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھائے اور اسے لقمہ دے کیونکہ کھانا پکانے کی مشقت اور آگ کی حرارت بھی تو اسی نے برداشت کی ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:475]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:475]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ جب غلام کھانے لے کر آئے تو اس کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا بہتر ہے، اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اسے کھانے میں سے کچھ حصہ ضرور دینا چاہیے۔ نہ کہ بچا کچھا کھانا انھیں دیا جائے۔
مذکورہ بالا حدیث سے اسلام کی حقانیت اور عدل وانصاف کا اثبات بھی ہوتا ہے کہ معاشرے میں سب سے کم مرتبے کا اگر کسی کو سمجھا جاتا ہے تو وہ غلام ہیں، لیکن اسلام نے ان کے بھی حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور غلام کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ ذوالجلال نے ارشاد فرمایا: ﴿وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِکُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ وَ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ﴾ (النسآء: 36) .... ’’اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتے دار، پڑوسی اور اجنبی پڑوسی، پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور ان کے ساتھ جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے یعنی غلاموں کے ساتھ۔‘‘ کھانا ساتھ کھلانے میں حکمت یہ ہے کہ اس سے غلام کے دل میں اپنے مالک کی محبت اور عزت واحترام بڑھے گا۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ جب غلام کھانے لے کر آئے تو اس کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھلانا بہتر ہے، اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اسے کھانے میں سے کچھ حصہ ضرور دینا چاہیے۔ نہ کہ بچا کچھا کھانا انھیں دیا جائے۔
مذکورہ بالا حدیث سے اسلام کی حقانیت اور عدل وانصاف کا اثبات بھی ہوتا ہے کہ معاشرے میں سب سے کم مرتبے کا اگر کسی کو سمجھا جاتا ہے تو وہ غلام ہیں، لیکن اسلام نے ان کے بھی حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور غلام کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ ذوالجلال نے ارشاد فرمایا: ﴿وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِکُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ وَ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ﴾ (النسآء: 36) .... ’’اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، رشتے دار، پڑوسی اور اجنبی پڑوسی، پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور ان کے ساتھ جن کے تمہارے دائیں ہاتھ مالک ہوئے یعنی غلاموں کے ساتھ۔‘‘ کھانا ساتھ کھلانے میں حکمت یہ ہے کہ اس سے غلام کے دل میں اپنے مالک کی محبت اور عزت واحترام بڑھے گا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 475 سے ماخوذ ہے۔