مسند اسحاق بن راهويه
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب: قرض کے لیے کوئی چیز گروی رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 468
اَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ، نَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ عِکْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تُوْفِّیَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهٗ مَرْهُوْنَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِّنْ یَهُوْدٍ بِثَلَاثِیْنَ صَاعًا مِّنْ شَعِیرٍ، اَخَذَهٗ طَعَامًا لِاَهْلِه.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ تیس صاع جو کے عوض، جو کہ آپ نے اپنے اہل خانہ کے کھانے کے واسطے لیے تھے، ایک یہودی شخص کے ہاں گروی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ کی زرہ تیس صاع جو کے عوض، جو کہ آپ نے اپنے اہل خانہ کے کھانے کے واسطے لیے تھے، ایک یہودی شخص کے ہاں گروی تھی۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:468]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:468]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کوئی چیز گروی رکھنا جائز ہے۔ گروی کا مطلب کیا ہے، قرض کے بدلے کوئی مال بحیثیت دستاویز دینا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اِنْ کُنْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ﴾ (البقرۃ: 283)
’’اگر تم سفر میں ہو اور تمہیں (قرض کا لین دین) لکھنے والا نہ ملے تو رہن قبضے میں رکھ لیا کرو۔‘‘
مذکورہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر مسلموں سے لین دین کرنا جائز ہے۔
مذکورہ حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خود داری بھی ثابت ہوتی ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بڑے مالدار بھی تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے قرض نہیں لیا کرتے تھے۔ دوسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زہد کا بھی اثبات ہوتا ہے۔ تیسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ آتا تھا، جو آپ کے لیے تھا لیکن اس کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی ضروریات کے لیے خرچ کردیتے تھے۔ (کیا مرتہن کے لیے رہن رکھی ہوئی چیز سے نفع اٹھانا جائز ہے؟) اگر ضرورت ہو تو رہن رکھے ہوئے جانور کو چارے کے عوض سواری کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا اور اس کا دودھ بھی استعمال کرنا جائز ہے۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کوئی چیز گروی رکھنا جائز ہے۔ گروی کا مطلب کیا ہے، قرض کے بدلے کوئی مال بحیثیت دستاویز دینا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ اِنْ کُنْتُمْ عَلٰی سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا کَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ﴾ (البقرۃ: 283)
’’اگر تم سفر میں ہو اور تمہیں (قرض کا لین دین) لکھنے والا نہ ملے تو رہن قبضے میں رکھ لیا کرو۔‘‘
مذکورہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر مسلموں سے لین دین کرنا جائز ہے۔
مذکورہ حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خود داری بھی ثابت ہوتی ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بڑے مالدار بھی تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام سے قرض نہیں لیا کرتے تھے۔ دوسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زہد کا بھی اثبات ہوتا ہے۔ تیسرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ آتا تھا، جو آپ کے لیے تھا لیکن اس کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی ضروریات کے لیے خرچ کردیتے تھے۔ (کیا مرتہن کے لیے رہن رکھی ہوئی چیز سے نفع اٹھانا جائز ہے؟) اگر ضرورت ہو تو رہن رکھے ہوئے جانور کو چارے کے عوض سواری کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا اور اس کا دودھ بھی استعمال کرنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 468 سے ماخوذ ہے۔