حدیث نمبر: 467
اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی، نَا اَبُوْ حَمْزَةَ السَّکَرِیُّ، عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ رَفِیْعٍ، عَنْ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: اَلشَّرِیْكُ شَفِیْعٌ، وَالشُّفْعَةُ فِیْ کُلِّ شَئْیٍٔ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شراکت دار حق شفعہ والا ہوتا ہے اور شفعہ ہر چیز میں ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البيوع / حدیث: 467
تخریج حدیث «السابق»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’شراکت دار حق شفعہ والا ہوتا ہے اور شفعہ ہر چیز میں ہوتا ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:467]
فوائد:
معلوم ہوا شفعہ ہر چیز میں ہو سکتا ہے۔ شفعہ کے لیے شریک ہونا ضروری ہے۔ جب مال تقسیم ہو جائے اور حدود کا تعین ہو جائے تو شفعہ کا حق ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 467 سے ماخوذ ہے۔