حدیث نمبر: 464
اَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، نَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ اَبِیْ نُجَیْحٍ، عَنْ اَبِی الْمِنْهَالِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذٰلِكَ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

ابوالمنہال نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البيوع / حدیث: 464
تخریج حدیث «السابق»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
ابوالمنہال نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:464]
فوائد:
مذکورہ حدیث میں بیع سلم اور سلف کا تذکرہ ہے۔ یہ اس طرح ہے کہ قیمت پہلے وصول کرلینا اور چیز جو وقت مقرر کیا ہوتا ہے، اس وقت ادا کرنا یہ بیع جائز ہے۔ بشرطیکہ بیچی اور خریدی جانے والی چیز کی مقدار کی نوعیت اور مطلوبہ چیز کی ادائیگی اور وصولی کا وقت اور دیگر ایسی چیزیں جن میں اختلاف ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا پہلے سے تعیّن کر لینا چاہیے۔ حقیقت میں یہ بیع معدوم ہونے کی وجہ سے ناجائز تھی، لیکن اقتصادی مصالح کے پیش نظر لوگوں کے لیے نرمی اور ان پر آسانی کرتے ہوئے اسے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ (بدایة المجتهد: 2؍ 199۔ المغنی: 4؍ 275)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 464 سے ماخوذ ہے۔