حدیث نمبر: 46
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، نا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيَسْأَلَنَّكُمُ النَّاسُ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، فَمَنْ خَلَقَهُ؟ " قَالَ جَعْفَرٌ: فحَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَأَنَّهُ رَفَعَهُ قَالَ: " فَإِنْ سُئِلْتُمْ فَقُولُوا: اللَّهُ كَانَ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، وَهُوَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، وَهُوَ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ ".
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ تم سے ہر چیز کے متعلق پوچھیں گے حتی کہ وہ کہیں گے: ان سب چیزوں کو تو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر اسے کس نے پیدا فرمایا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم سے (اس طرح کا سوال) پوچھا جائے تو کہو: اللہ ہر چیز سے پہلے موجود تھا، اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، اور وہی ہر چیز کے بعد بھی ہو گا۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الايمان / حدیث: 46
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب بدء الخلق ، باب صفة ابليس وجنوده ، رقم : 3276 . مسلم ، كتاب الايمان ، باب بيان الوسوسة فى الايمان الخ ، رقم : 135 . سنن ابوداود ، رقم : 4721 . مسند احمد : 282/2»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگ تم سے ہر چیز کے متعلق پوچھیں گے حتیٰ کہ وہ کہیں گے: ان سب چیزوں کو تو اللہ نے پیدا فرمایا ہے تو پھر اسے کس نے پیدا فرمایا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تم سے (اس طرح کا سوال) پوچھا جائے تو کہو: اللہ ہر چیز سے پہلے موجود تھا، اسی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، اور وہی ہر چیز کے بعد بھی ہوگا۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:46]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان کے دل میں شیطان ایسے وسوسے ڈالتا ہے جو ایمان کے خلاف ہوتے ہیں۔ ایسی باتیں عموماً اہل ایمان کو پیش آتی ہیں کیونکہ شیطان ایمان کا دشمن ہے، اس لیے اہل ایمان پر ہی اس کے وسوسوں کا بکثرت ورود ہوتا ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَاِذَا بَلَغَهٗ فَلْیَسَتَعِذْ بِاللّٰهِ وَلْیَنْتَهِ)).... ’’جب کسی کو ایسا تردد لاحق ہو جائے تو وہ شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے اور اپنی توجہ اس وسوسہ سے ہٹا لے۔ ‘‘ (صحیح بخاري، رقم: 3276۔ صحیح مسلم، رقم: 214)
ایک دوسری حدیث میں ہے جب یہ خیال آئے کہ اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو اس کے جواب میں کہو: ((اَللّٰهُ اَحَدٌ اَللّٰهُ الصَّمَدْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَّکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ)) (سنن ابي داود، کتاب السنۃ: 4722)
اسی طرح معوذتین کی تلاوت صبح وشام تین تین مرتبہ اور ہر نماز کے بعد ایک ایک مرتبہ کرنی چاہیے تاکہ شیطان کے وسوسوں سے بچا جا سکے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 46 سے ماخوذ ہے۔