حدیث نمبر: 459
اَخْبَرَنَا عَمْرٌ (و): فَذَکَرْتُ ذٰلِكَ لِطَاؤُوْسٍ، فَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اِنَّمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: لَاَنْ یَّمْنَحَ اَحَدُکُمْ اَخَاهٗ الْاَرْضَ، خَیْرٌ لَهٗ مِنْ اَنْ یَّأْخُذَ لَهَا خَرْجًا مَّعْلُوْمًا.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے (مسلمان) بھائی کو زمین بلا معاوضہ دے دے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس کا مقرر کردہ ٹھیکہ وصول کرے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البيوع / حدیث: 459
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب المزارعة ، باب اذا لم يشترط السنين الخ ، رقم : 2330 . مسلم . كتاب البيوع ، باب الارض تمنح ، رقم : 1550 . سنن ابوداود ، رقم : 3389 . سنن نسائي ، رقم : 3873 . سنن ابن ماجه ، رقم : 2464 . مسند احمد : 234/1 . سنن كبري بيهقي : 133/6»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اپنے (مسلمان) بھائی کو زمین بلا معاوضہ دے دے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ اس کا مقرر کر دہ ٹھیکہ وصول کرے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:459]
فوائد:
معلوم ہوا زمین کو بلا معاوضہ کاشتکاری کے لیے دینا مالک کے اختیار میں ہے، لیکن اگر ٹھیکہ لیا جائے تو اس میں شرعی طور پر کوئی حرج نہیں ہے۔ گویا بلامعاوضہ دینا قرض حسنہ کی سی صورت ہے جس میں صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 459 سے ماخوذ ہے۔