مسند اسحاق بن راهويه
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب: تجارتی قافلوں کو بازار پہنچنے سے پہلے ملنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 457
اَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، نَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ اَبِیْهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهٰی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اَنْ تُتَلَقَّی الرُّکْبَانِ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلوں کو مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے راستوں میں جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلوں کو مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے راستوں میں جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:457]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:457]
فوائد:
مذکورہ حدیث میں قافلوں کو جاکر ملنے کی ممانعت کی وجہ یہ تھی کہ شہری آدمی بدوی کو شہر کی مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں جا ملے، تاکہ بھاؤ کے متعلق غلط بیانی کرکے اس سے سامان سستے داموں خریدے اور اس کی اصل قیمت سے کم قیمت پر اس سے حاصل کرے۔ منع کرنے سے مقصود یہ ہے کہ فروخت کرنے والا دھوکا دہی اور ضرر رسانی سے بچ جائے۔ جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔ (نیل الاوطار: 3؍ 539)
مذکورہ حدیث میں قافلوں کو جاکر ملنے کی ممانعت کی وجہ یہ تھی کہ شہری آدمی بدوی کو شہر کی مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے راستے ہی میں جا ملے، تاکہ بھاؤ کے متعلق غلط بیانی کرکے اس سے سامان سستے داموں خریدے اور اس کی اصل قیمت سے کم قیمت پر اس سے حاصل کرے۔ منع کرنے سے مقصود یہ ہے کہ فروخت کرنے والا دھوکا دہی اور ضرر رسانی سے بچ جائے۔ جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔ (نیل الاوطار: 3؍ 539)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 457 سے ماخوذ ہے۔