مسند اسحاق بن راهويه
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل
باب: لونڈیوں (کی بدکاری) کی کمائی حرام ہے
حدیث نمبر: 443
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: ((نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:443]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:443]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا لونڈیوں سے بدکاری کرا کے مال حاصل کرنا حرام ہے۔ دور جاہلیت میں لوگ اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرتے تھے، اسلام نے نہایت سختی کے ساتھ اس کام سے روکا اور ایسی کمائی کو حرام قرار دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَا تُکْرِهُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاءِ اِِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَمَنْ یُّکْرِهُّنَّ فَاِِنَّ اللّٰهَ مِنْ بَعْدِ اِِکْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ﴾ (النور: 33).... ’’تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کر دے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخش دینے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا لونڈیوں سے بدکاری کرا کے مال حاصل کرنا حرام ہے۔ دور جاہلیت میں لوگ اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور کرتے تھے، اسلام نے نہایت سختی کے ساتھ اس کام سے روکا اور ایسی کمائی کو حرام قرار دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلَا تُکْرِهُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاءِ اِِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَمَنْ یُّکْرِهُّنَّ فَاِِنَّ اللّٰهَ مِنْ بَعْدِ اِِکْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ﴾ (النور: 33).... ’’تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کر دے تو اللہ تعالیٰ ان پر جبر کے بعد بخش دینے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 443 سے ماخوذ ہے۔