حدیث نمبر: 431
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَفْلَسَ بِمَالِ قَوْمٍ فَرَأَى رَجُلٌ مَالَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں کے مال سے مفلس ہو جائے اور کوئی آدمی اپنا مال بالکل اسی طرح (موجود) دیکھ لے، تو وہ کسی اور کی نسبت اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب البيوع / حدیث: 431
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب المساقاة ، باب من ادرك ماياعه الخ ، رقم : 1559 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص لوگوں کے مال سے مفلس ہو جائے اور کوئی آدمی اپنا مال بالکل اسی طرح (موجود) دیکھ لے، تو وہ کسی اور کی نسبت اس مال کا زیادہ حق دار ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:431]
فوائد:
مذکورہ حدیث میں دیوالیہ ہو جانے والے انسان سے متعلق دوسروں کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے کہ اگر کسی کا ساز و سامان دیوالیہ ہو جانے والے کے پاس اصل حالت میں موجود ہو تو دیگر مطالبات کرنے والوں کی نسبت وہ اس اصل زر کو لینے کا زیادہ حق دار ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 431 سے ماخوذ ہے۔