حدیث نمبر: 420
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، نا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَاذِ ابْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ: ((مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيَصُمْ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِهِ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، عاشورا کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی بستیوں کی طرف پیغام بھیجا، تو فرمایا: ”جس نے آج روزہ رکھا ہے تو وہ اسے پورا کرے، اور جس نے تم میں سے روزہ نہیں رکھا تو وہ باقی دن کا روزہ رکھ لے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، عاشورا کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی بستیوں کی طرف پیغام بھیجا، تو فرمایا: ’’جس نے آج روزہ رکھا ہے تو وہ اسے پورا کرے، اور جس نے تم میں سے روزہ نہیں رکھا تو وہ باقی دن کا روزہ رکھ لے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:420]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:420]
فوائد:
مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو روزہ دار ہے وہ اپنا روزہ پورا کرے اور جو روزے سے نہیں یعنی جس نے کھا پی لیا ہے تو اس کو چاہیے کہ شام تک کچھ نہ کھائے پیئے۔ 10 محرم عاشورا کے روزے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو روزہ دار ہے وہ اپنا روزہ پورا کرے اور جو روزے سے نہیں یعنی جس نے کھا پی لیا ہے تو اس کو چاہیے کہ شام تک کچھ نہ کھائے پیئے۔ 10 محرم عاشورا کے روزے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 420 سے ماخوذ ہے۔