حدیث نمبر: 419
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، نا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی بہتر ہو گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی بہتر ہوگی۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:419]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:419]
فوائد:
خلوف ایسی بوجو کافی دیر تک نہ کھانے پینے کی وجہ سے ہو نہ کہ وہ بوجو مسواک نہ کرنے کی وجہ سے ہو۔ یہ اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بڑھ کر ہوگی قیامت کے روز۔ اس سے روزہ دار کی فضیلت اور بھوک پیاس برداشت کرنے کے عوض اجر و ثواب معلوم ہوتا ہے۔
خلوف ایسی بوجو کافی دیر تک نہ کھانے پینے کی وجہ سے ہو نہ کہ وہ بوجو مسواک نہ کرنے کی وجہ سے ہو۔ یہ اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بڑھ کر ہوگی قیامت کے روز۔ اس سے روزہ دار کی فضیلت اور بھوک پیاس برداشت کرنے کے عوض اجر و ثواب معلوم ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 419 سے ماخوذ ہے۔