حدیث نمبر: 416
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، نا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ قَالَ: ((صَوْمُكُمْ يَوْمَ تَصُومُونَ وَفِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا روزہ اس دن ہے جب تم (چاند دیکھ کر) روزہ رکھو اور تمہاری عیدالفطر اس دن ہے جس دن تم (رمضان مکمل کر کے) روزہ رکھنا بند کر دیتے ہو۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصوم / حدیث: 416
تخریج حدیث «سنن ابوداود ، كتاب الصيام ، باب اذا اخطا القوم الهلال ، رقم : 2324 . سنن ترمذي ، ابواب الصوم ، باب الصوم يوم تصومون والفطر الخ ، رقم : 697 . سنن ابن ماجه ، رقم : 1660 . قال الشيخ الالباني : صحيح .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارا روزہ اس دن ہے جب تم (چاند دیکھ کر) روزہ رکھو اور تمہاری عیدالفطر اس دن ہے جس دن تم (رمضان مکمل کر کے) روزہ رکھنا بند کر دیتے ہو۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:416]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا روزے رکھنا اور روزے چھوڑ کر عید منانا دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ہی کیے جائیں گے، کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اکیلا ہی روزے رکھ لے اور اکیلا ہی عید منانا شروع کر دے۔ کیونکہ رمضان المبارک کے روزے رکھنا اور عید منانا اجتماعی عبادت ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 416 سے ماخوذ ہے۔