حدیث نمبر: 415
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِهِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

اسی سند (سابقہ) سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے شب قدر کا قیام کرتا ہے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصوم / حدیث: 415
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الايمان ، باب قيام ليلة القدر من الايمان ، رقم : 35 . مسلم ، كتاب صلاة المسافرين ، باب الترغيب فى قيام رمضان وهو التراويح ، رقم : 760 . سنن ابوداود ، رقم : 1372 . سنن ترمذي ، رقم : 683 . سنن نسائي ، رقم : 2202 . سنن ابن ماجه ، رقم : 1326»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی سند (سابقہ ۴۷۹) سے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو اللہ پر ایمان لاتے ہوئے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے شب قدر کا قیام کرتا ہے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:415]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے لیلۃ القدر کے قیام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، یہ بھی معلوم ہوا اعمال کی قبولیت کے لیے ایمان شرط ہے اگر کوئی ایمان کے بغیر عمل کرتا ہے، وہ خدمت خلق، صلہ رحمی، بیت اللہ کی تعمیر، حاجیوں کی خدمت کرنا ہی کیوں نہ ہو، وہ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں، بلکہ اللہ کے ہاں بالکل بے وزن ہوں گے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَعْمَالُهُمْ کَسَرَابٍ بِّقِیعَةٍ یَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتّٰی اِِذَا جَاء لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّوَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَہٗ فَوَفَّاهُ حِسَابَهٗ﴾ (النور: 39) .... ’’اور کافروں کے اعمال مثل اس چمکتی ہوئی ریت کے ہیں، جو چٹیل میدان میں ہو جسے پیاسا شخص دور سے پانی سمجھتا ہے، لیکن جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو کچھ بھی نہیں پاتا ہاں اللہ کو اپنے پاس پاتا ہے جو اس کا حساب پورا پورا چکا دیتا ہے۔‘‘ مزید سورۃ القدر کی تفسیر دیکھی جا سکتی ہے۔
گزشتہ گناہوں کی معافی سے صغیرہ گناہ مراد ہیں، نہ کہ کبیرہ لیکن بعض اوقات کسی نیکی کہ وجہ سے اللہ ذوالجلال بڑے گناہ بھی معاف کر دیتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 415 سے ماخوذ ہے۔