حدیث نمبر: 411
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُمَيْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ، وَأَفْضَلُ الصَّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرض نماز کے بعد افضل نماز، نماز تہجد ہے اور ماہ رمضان کے روزے کے بعد افضل روزہ اللہ کے مہینے محرم کا روزہ ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصوم / حدیث: 411
تخریج حدیث «السابق»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فرض نماز کے بعد افضل نماز نماز تہجد ہے اور ماہ رمضان کے روزے کے بعد افضل روزہ اللہ کے مہینے محرم کا روزہ ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:411]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے نماز تہجد اور محرم کے روزوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
(1) قیام اللیل: نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ ذوالجلال نے اس نماز کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا: ﴿وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا﴾ (الاسراء: 79).... ’’اور رات کے کچھ حصے میں نماز تہجد ادا کر، یہ تیرے لیے ایک نفل عمل ہے۔ یقین ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔‘‘
اور مومنوں کی صفات کا اللہ ذوالجلال نے بیان فرمایا ہے: ﴿تَتَجَافٰی جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ (السجدۃ: 16) دوسری جگہ فرمایا: ﴿کَانُوْا قَلِیْلًا مِنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ﴾ (الذاریات: 17) .... ’’رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔‘‘
(2) محرم کا روزہ: ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عاشوراء (یعنی دس محرم) کے روزے کی بابت سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یُکَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِیَةَ)) (مسلم، رقم: 1162).... ’’یہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔‘‘
مذکورہ بالاحدیث میں ہے کہ اللہ کے مہینے محرم کا روزہ، اس سے محرم کی فضیلت وعظمت ثابت ہوتی ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے بیت اللہ، ناقۃ اللہ میں اللہ ذوالجلال کی طرف نسبت ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 411 سے ماخوذ ہے۔