حدیث نمبر: 402
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، نا مُحَمَّدٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَقَالَ: فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس راوی نے حدیث سابق کے مثل ذکر کیا، اور فرمایا: ”اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الصوم / حدیث: 402
تخریج حدیث «السابق»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پس راوی نے حدیث سابق کے مثل ذکر کیا، اور فرمایا: ’’اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:402]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ چاند دیکھ کر روزے رکھنے شروع کرنے چاہیں اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا ختم کرنے چاہیں۔ لیکن اگر ماہ شعبان کے انتیسویں روز مطلع ابر آلود ہونے کے باعث رمضان کا چاند نظر نہ آئے تو پھر روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ بلکہ شعبان کے تیس دن پورے کر لیے جائیں۔ اسی طرح رمضان المبارک کی انتیسویں روز مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے شوال کا چاند نظر نہ آئے تو روزے تیس مکمل کرنے چاہئیں، کیونکہ مشکوک دن کا روزہ رکھنا جائز نہیں۔ یعنی ماہ شعبان کا تیسواں دن ہے، اس رات مطلع ابر آلود ہو اور اس باعث چاند نظر نہ آسکے تو یقینا شک رہے گا کہ آیا صبح رمضان ہے یا تیس شعبان؟ تو روزہ نہیں رکھنا چاہیے جیسا کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس نے مشکوک دن کا روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ (سنن ابی داود، رقم: 2334۔ سنن دارمي، رقم: 1682 اسناده حسن)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 402 سے ماخوذ ہے۔