مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الايمان— ایمان کا بیان
باب: اہل ایمان کے ساتھ اللہ ذوالجلال کے فضل و کرم کا اثبات
حدیث نمبر: 40
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً)) .ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نیکی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے کر نہیں پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اگر وہ اس نیکی کو کر لیتا ہے تو دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اور جو کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے کرتا نہیں تو اس کے خلاف نہیں لکھی جاتی، اور اگر وہ اسے کر لیتا ہے تو وہ ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
´اہل ایمان کے ساتھ اللہ ذوالجلال کے فضل و کرم کا اثبات`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو نیکی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے کر نہیں پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اگر وہ اس نیکی کو کر لیتا ہے تو دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اور جو کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے کرتا نہیں تو اس کے خلاف نہیں لکھی جاتی، اور اگر وہ اسے کر لیتا ہے تو وہ ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔ " [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 40]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو نیکی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے کر نہیں پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، اگر وہ اس نیکی کو کر لیتا ہے تو دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، اور جو کسی برائی کا ارادہ کرتا ہے لیکن اسے کرتا نہیں تو اس کے خلاف نہیں لکھی جاتی، اور اگر وہ اسے کر لیتا ہے تو وہ ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔ " [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الايمان/حدیث: 40]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے اللہ ذوالجلال کے فضل و کرم کا اثبات ہوتا ہے جو اہل ایمان کے ساتھ وہ کرے گا کہ ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر عطا فرمائے گا یہ کم از کم ہے۔ حالانکہ دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے دس نیکیوں سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ نیکیوں کا ثواب اس کے لیے لکھ دیتا ہے۔" [بخاري، رقم: 6491، مسلم، رقم: 131]
ارشاد باری تعالیٰ ہے: «مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» [6-الأنعام:160]
"جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہو گا۔"
مذکورہ حدیث سے اللہ ذوالجلال کے فضل و کرم کا اثبات ہوتا ہے جو اہل ایمان کے ساتھ وہ کرے گا کہ ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر عطا فرمائے گا یہ کم از کم ہے۔ حالانکہ دوسری صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ ایک نیکی کے بدلے دس نیکیوں سے لے کر سات سو گنا بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ نیکیوں کا ثواب اس کے لیے لکھ دیتا ہے۔" [بخاري، رقم: 6491، مسلم، رقم: 131]
ارشاد باری تعالیٰ ہے: «مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» [6-الأنعام:160]
"جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہو گا۔"
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 40 سے ماخوذ ہے۔