مسند اسحاق بن راهويه
كتاب المناسك— اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب: طوافِ قدوم کے پہلے تین چکروں میں رمل کرنا
حدیث نمبر: 389
اَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، نَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ خُثَیْمٍ، عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةَ الْحُدَیْبِیَّةِ قَالَ: اِنَّهُمْ سَیَرَوْنَکُمْ غَدًا فَلْیَرَوْا بِکُمْ جِلْدًا، قَالَ: فَسَعَی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَسَعَوْا مَعَهٗ حَتَّی بَلَغُوْا الرُّکْنَ الْیَمَانِّیْ، ثُمَّ مَشَوْا حَتَّی بَلَغُوْا الْحَجَرَ الْاَسْوَدَ، ثُمَّ سَعَوْا حَتَّی بَلَغُوْا الرُّکْنَ الْیَمَانِّی۔ فَفَعَلَ ذٰلِكَ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَشٰی اَرْبَعًا.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ حدیبیہ کے لیے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (مشرک) کل تمہیں دیکھیں گے، تو وہ تم میں قوت و سختی دیکھیں۔“ راوی نے بیان کیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلے اور وہ بھی آپ کے ساتھ تیز تیز چلے حتیٰ کہ وہ رکن یمانی تک پہنچے، پھر عام چال چلے حتیٰ کہ حجر اسود تک پہنچ گئے، پھر تیز چلے حتیٰ کہ رکن یمانی تک پہنچے، آپ نے تین بار (تین چکروں میں) اس طرح کیا اور پھر چار چکر عام چال چل کر لگائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ حدیبیہ کے لیے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ (مشرک) کل تمہیں دیکھیں گے، تو وہ تم میں قوت و سختی دیکھیں۔‘‘ راوی نے بیان کیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلے اور وہ بھی آپ کے ساتھ تیز تیز چلے حتیٰ کہ وہ رکن یمانی تک پہنچے، پھر عام چال چلے حتیٰ کہ حجر اسود تک پہنچ گئے، پھر تیز چلے حتیٰ کہ رکن یمانی تک پہنچے، آپ نے تین بار (تین چکروں میں) اس طرح کیا اور پھر چار چکر عام چال چل کر لگائے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:389]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:389]
فوائد:
رمل صرف طواف قدوم کے پہلے تین چکروں میں ہی کرنا مسنون ہے جبکہ باقی چار چکر بغیر رمل کے ہیں۔
رمل صرف طواف قدوم کے پہلے تین چکروں میں ہی کرنا مسنون ہے جبکہ باقی چار چکر بغیر رمل کے ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 389 سے ماخوذ ہے۔