مسند اسحاق بن راهويه
كتاب المناسك— اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب: غیر شرعی نذر پوری نہیں کرنی چاہیے
حدیث نمبر: 376
اَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، اَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِیْ عَطَاءٌ، اَنَّ رَجُلًا قَالَ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ: اِنِّیْ نَذَرْتُ اَنْ اَنْحَرَ نَفْسِیْ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے نذر مانی ہے کہ میں اپنی جان کی قربانی دوں، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے۔ (اور قرآن مجید میں ہے) ”اور ہم نے اس کے بدلے میں ذبح کرنے کے لیے اسے ایک بڑا موٹا جانور دے دیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے نذر مانی ہے کہ میں اپنی جان کی قربانی دوں، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’تمہارے لیے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے۔ (اور قرآن مجید میں ہے) اور ہم نے اس کے بدلے میں ذبح کرنے کے لیے اسے ایک بڑا موٹا جانور دے دیا۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:376]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:376]
فوائد:
معلوم ہوا غیر شرعی نذر پوری نہیں کرنی چاہیے۔
معلوم ہوا غیر شرعی نذر پوری نہیں کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 376 سے ماخوذ ہے۔