حدیث نمبر: 349
اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ عَمْرٍو، اَنَّهٗ سَمِعَ اَبَا مَعْبَدٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَخْطِبُ، یَقُوْلُ: اَلَا لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِاِمْرَأَةٍ (اِلَّا وَمَعَهَا) ذُوْمَحْرَمٍ، وَلَا تُسَافِرُ اِمْرَأَةٌ اِلَّا وَمَعَهَا ذُوْ مَحْرَمٍ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: اِنِّیْ اکْتُتِبْتُ فِیْ غَزْوَۃِ کَذَا وَکَذَا، وَانْطَلَقَتْ اِمْرَأَتِیْ حَاجَّةً، قَالَ: فَانْطَلِقْ فَاحْجُجْ مَعَ اِمْرَأَتِكَ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”سنو! کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے، الا یہ کہ اس کے ساتھ کوئی محرم رشتے دار ہو، کوئی عورت سفر نہ کرے الا یہ کہ اس کے ساتھ محرم رشتے دار ہو۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا نام فلاں اور فلاں غزوہ کے لیے لکھ لیا گیا، جبکہ میری اہلیہ حج کے لیے جا رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کرو۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب المناسك / حدیث: 349
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الجهاد والسير ، باب من اكتتب فى جيش الخ ، رقم : 3006 . مسلم ، كتاب الحج ، باب سفر المراة مع محرم الخ ، رقم : 1341»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’سنو! کوئی آدمی کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے، الا یہ کہ اس کے ساتھ کوئی محرم رشتے دار ہو، کوئی عورت سفر نہ کرے الا یہ کہ اس کے ساتھ محرم رشتے دار ہو۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میرا نام فلاں اور فلاں غزوہ کے لیے لکھ لیا گیا، جبکہ میری اہلیہ حج کے لیے جا رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جاؤ اور اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کرو۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:349]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کا بغیر محرم کے طویل سفر کرنا جائز نہیں ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ ایک دن اور ایک رات کا۔ بعض میں دو دن اور بعض میں تین دن اور تین راتوں کا تذکرہ ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ ایک یا دو یا تین دونوں کا اعتبار نہیں، بلکہ اعتبار مسافت کا ہے۔ جس کو سفر کہا جاتا ہے وہ تنہا عورت کے لیے کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا عورت کے لیے غیر محرم کے ساتھ حج کرنا جائز نہیں، بلکہ اس کے محرم کا ساتھ جانا ضروری ہے۔ مذکورہ حدیث میں ہے کہ صحابی کو جہاد سے ہٹا کر حج کے لیے روانہ کیا، معلوم ہوا اگر ایک آدمی نے جہاد کے لیے نام لکھوا لیا ہو، پھر کوئی شرعی عذر پیش آجائے تو امیر سے اجازت لے کر جہاد سے اپنا نام کٹوا سکتا ہے۔ کیونکہ جہاد میں تو اس آدمی کی جگہ پر اور شریک ہوسکتا تھا لیکن اس عورت کے ساتھ دوسرا مرد نہیں جاسکتا تھا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 349 سے ماخوذ ہے۔