مسند اسحاق بن راهويه
كتاب المناسك— اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب: احرم باندھنے کے لیے میقات کا بیان
حدیث نمبر: 334
اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاؤُوْسٍ قَالَ: وَقَّتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مِثْلَهٗ، وَقَالَ: مَنْ کَانَ اَهْلُهٗ دُوْنَ الْمِیْقَاتِ، فَمِنْ حَیْثُ بَنٰی.ترجمہ: محمد سرور گوہر
طاؤس رحمہ اللہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر فرمایا، اور راوی نے اسی مثل ذکر کیا، اور فرمایا: اور جس شہر کے رہنے والے میقات کے اندر رہتے ہوں تو وہ جہاں سے چاہیں احرام باندھ لیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
طاؤس رحمہ اللہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات مقرر فرمایا، اور راوی نے اسی مثل ذکر کیا، اور فرمایا: ’’اور جس شہر کے رہنے والے میقات کے اندر رہتے ہوں تو وہ جہاں سے چاہیں احرام باندھ لیں۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:334]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:334]
فوائد:
میقات کی دو اقسام ہیں: (1).... میقات زمانی۔ (2).... میقاتِ مکانی
(1) میقات زمانی:.... وہ وقت جس کے اندر حج کا احرام باندھا جاسکتا ہے وہ شوال، ذی القعدہ، کے مہینے اور ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ﴾ (البقرۃ: 197) .... ’’حج کے مہینے مقرر ہیں۔‘‘
(2) میقات مکانی:.... یعنی وہ مقامات جہاں سے حج یا عمرہ کا احرام باندھا جاتا ہے اور ان میقات سے باہر آنے والے بغیر احرام باندھے آگے نہیں گزر سکتے، میقاتِ مکانی یہ ہیں: (1) ذوالحلیفہ:.... اس کا نیا نام آبارِ علی ہے۔ یہ میقات مدینہ منورہ اور اس کے قرب و جوار والوں کا ہے، یہ مکہ معظمہ سے تقریباً 450 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
(2) جحفہ:.... یہ بستی شام، مصر اور ترکی کی جانب سے آنے والوں کے لیے میقات ہے اب یہ ویران ہوچکی ہے۔ اسی لیے آج کل اس کے ایک قریبی مقام رابغ سے احرام باندھا جاتا ہے اور یہ مقام مکہ سے شمال کی جانب 187 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
(3) قرن المنازل:.... نجد اور عرفات کی جانب سے آنے والوں کا میقات ہے۔ یہ ایک پہاڑ کا نام ہے جس کے دامن میں ایک بستی تھی جو اب موجود نہیں، آج کل اس کے قریب السیل نامی جگہ ہے جو مکہ مکرمہ سے تقریباً 94 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
(4) یلملم:.... یہ یمن والوں کے احرام باندھنے کا مقام ہے، یلملم ایک پہاڑ کا نام ہے جو تقریباً مکہ سے 92 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
(5) معلوم ہوا جو شخص حج یا عمرہ کرنا چاہتا ہو وہ ان میقاتوں سے احرام باندھے گا لیکن جو ان میقاتوں کے اندر مقیم ہیں وہ اپنی اپنی رہائش گاہوں سے احرام باندھیں گے۔
میقات کی دو اقسام ہیں: (1).... میقات زمانی۔ (2).... میقاتِ مکانی
(1) میقات زمانی:.... وہ وقت جس کے اندر حج کا احرام باندھا جاسکتا ہے وہ شوال، ذی القعدہ، کے مہینے اور ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ﴾ (البقرۃ: 197) .... ’’حج کے مہینے مقرر ہیں۔‘‘
(2) میقات مکانی:.... یعنی وہ مقامات جہاں سے حج یا عمرہ کا احرام باندھا جاتا ہے اور ان میقات سے باہر آنے والے بغیر احرام باندھے آگے نہیں گزر سکتے، میقاتِ مکانی یہ ہیں: (1) ذوالحلیفہ:.... اس کا نیا نام آبارِ علی ہے۔ یہ میقات مدینہ منورہ اور اس کے قرب و جوار والوں کا ہے، یہ مکہ معظمہ سے تقریباً 450 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
(2) جحفہ:.... یہ بستی شام، مصر اور ترکی کی جانب سے آنے والوں کے لیے میقات ہے اب یہ ویران ہوچکی ہے۔ اسی لیے آج کل اس کے ایک قریبی مقام رابغ سے احرام باندھا جاتا ہے اور یہ مقام مکہ سے شمال کی جانب 187 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
(3) قرن المنازل:.... نجد اور عرفات کی جانب سے آنے والوں کا میقات ہے۔ یہ ایک پہاڑ کا نام ہے جس کے دامن میں ایک بستی تھی جو اب موجود نہیں، آج کل اس کے قریب السیل نامی جگہ ہے جو مکہ مکرمہ سے تقریباً 94 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
(4) یلملم:.... یہ یمن والوں کے احرام باندھنے کا مقام ہے، یلملم ایک پہاڑ کا نام ہے جو تقریباً مکہ سے 92 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
(5) معلوم ہوا جو شخص حج یا عمرہ کرنا چاہتا ہو وہ ان میقاتوں سے احرام باندھے گا لیکن جو ان میقاتوں کے اندر مقیم ہیں وہ اپنی اپنی رہائش گاہوں سے احرام باندھیں گے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 334 سے ماخوذ ہے۔