حدیث نمبر: 329
اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ طَاؤُوْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَرِیْرٌ: وَعَنْ عَطَاءٍ لَمْ یَرْفَعْهٗ قَالَ: اَلطَّوَافُ بِالْبَیْتِ مِثْلَ الصَّلَاةِ، اِلَّا اَنَّکُمْ تَتَکَلَّمُوْنَ فِیْهِ، فَلَا یَتَکَلَّمَنَّ اَحَدُکُمْ اِلَّا بِخَیْرٍ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف نماز ہی کی طرح ہے، الا یہ کہ تم اس میں بات چیت کر سکتے ہو، پس تم صرف خیر و بھلائی کی بات کرو۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب المناسك / حدیث: 329
تخریج حدیث «سنن ترمذي ، ابواب الحج ، باب ماجاء فى الكلام فى الطواف ، رقم : 960 . سنن نسائي ، كتاب مناسك الحج ، باب اباحة الكلام فى الطواف ، رقم : 2922 . قال الشيخ الالباني : صحيح . صحيح ابن حبان ، رقم : 3836 . صحيح ابن خزيمه : 2739 . مستدرك حاكم : 630/1»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیت اللہ کا طواف نماز ہی کی طرح ہے، الایہ کہ تم اس میں بات چیت کر سکتے ہو، پس تم صرف خیر و بھلائی کی بات کرو۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:329]
فوائد:
مذکورہ حدیث میں ہے بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے، مثلاً: جس طرح نماز کے لیے وضو کرنا شرط ہے تو طواف کے لیے بھی شرط ہے جیسا کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ (بخاري، رقم: 1641، 1642)
امام احمد، امام مالک، امام شافعی رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے۔ (دیکھئے: المغنی: 5؍ 223)
دوران نماز گفتگو کرنا حرام ہے۔ لیکن شریعت نے طواف کرنے والوں کو گفتگو کرنے کی رخصت دی۔ لہٰذا اگر بات کریں تو اچھی کرنی چاہیے وہ بھی بوقت ضرورت نہ کہ زیادہ گفتگو جیسا کہ سنن نسائی میں ہے: ((اَلطَّوَافُ بِالْبَیْتِ صَلَاةٌ فَاَقِلُّوْا مِنَ الْکَلَامِ۔)) .... بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے، لہٰذا دورانِ طواف کم سے کم بات کرو۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 329 سے ماخوذ ہے۔