حدیث نمبر: 321
اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ سُلَیْمَانَ الْاَحْوَلِ، عَنْ طَاؤُوْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ النَّاسُ یَنْصَرِفُوْنَ فِیْ کُلِّ وَجْهٍ، فَاَمَرَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّکُوْنَ اَخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَیْتِ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، لوگ (حج کے اعمال سے فارغ ہوکر منیٰ سے) ہر طرف سے (اپنے اپنے وطن و علاقے کو) واپس چلے جاتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم فرمایا: ”کہ ان کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس (طواف میں) گزرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، لوگ (حج کے اعمال سے فارغ ہو کر منیٰ سے) ہر طرف سے (اپنے اپنے وطن وعلاقے کو) واپس چلے جاتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم فرمایا: ’’کہ ان کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس (طواف میں) گزرے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:321]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:321]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا طواف وداع کرنا ضروری ہے اور کوشش کرنی چاہیے کہ جب مکہ معظمہ سے نکلنے لگے وطن واپسی آنے کے لیے یا مدینہ منورہ جانے کے لیے تو اس وقت اور اس کے بعد سفر شروع کردیں۔ جمہور کے نزدیک طواف وداع کرنا واجب ہے، اگر طواف وداع نہ کرے گا تو دم واجب ہوگا۔
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا طواف وداع کرنا ضروری ہے اور کوشش کرنی چاہیے کہ جب مکہ معظمہ سے نکلنے لگے وطن واپسی آنے کے لیے یا مدینہ منورہ جانے کے لیے تو اس وقت اور اس کے بعد سفر شروع کردیں۔ جمہور کے نزدیک طواف وداع کرنا واجب ہے، اگر طواف وداع نہ کرے گا تو دم واجب ہوگا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 321 سے ماخوذ ہے۔